اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کو عوامی قیام سے شدید تشویش لاحق ہے اور اس کے باوجود کہ اس خاندان نے حال ہی میں قطیف کے تناؤ زدہ علاقے سے اپنی فوجیں واپس بلوائی تھیں، کل سے اس نے اس علاقے میں افواج کی تعیناتی شروع کررکھی ہے۔ اس کو خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوامی قیام و انقلاب الشرقیہ کے شیعہ علاقوں سے نکل کر دوسرے علاقوں میں نہ پھیل جائے۔ یہ وہی تشویش ہے جو بڑھتی ہی رہتی ہے انسانی فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ ایک خاندان کو ایک قوم کی سیادت کبھی بھی نہیں دی جاسکتی خاص طور پر اگر وہ خاندان زور زبردستی اور جبر و ستم کے ذریعے اپنی سیادت کا تحفظ کرتا آیا ہو۔
ــ قطیف میں آل سعود کی فوجوں کی دوبارہ تعیناتی مشرقی سعودی عرب کے شیعہ علاقے القطیف سے باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ عاشورائے حسینی کی آمد آمد پر آل سعود کی سیکورٹی فورسز نے الشرقیہ کے تناؤ زدہ شہر/صوبے القطیف میں شدیدترین سیکورٹی انتظامات کئے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق آل سعود نے نہتے عوام کا مقابلہ کرنے کے لئے درجنوں ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے دستے تعینات کئے ہیں جبکہ سیکورٹی فورسز اور فوج کے پیدل دستے بھی تعینات کئے جاچکے ہیں۔ذرائع نے آل سعود کی طرف جان و مال کا خطرہ لاحق ہونے کی بنا پر اپنی شناخت بتائے بغیر ذرائع کو بتایا ہے کہ آل سعود کے فوجی دستے کل رات القطیف میں داخل ہوکر قطیف صوبے اور شہر کے مختلف علاقوں میں تعینات ہوئے ہیں۔ان ذرائع نے زور دے کر کہا کہ سعودی فورسز نے مختلف راستوں پر عزاخانوں اور حسینیات کے قریبی علاقوں میں چیک پوسٹ قائم کئے ہیں تا کہ اس طر اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے عزاداروں پر نظر رکھی جاسکے۔دریں اثناء فرانس کی خبر ایجنسی نے کل ہی عینی شاہدین اور حقوق و قانون سے متعلق اداروں کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ آل سعود نے العوامیہ اور الشویکہ کے علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلالی ہیں۔ یہ علاقے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران آل سعود کے گماشتوں کے ہاتھوں چار نوجوانوں کی شہادت کی بنا پر تناؤ سے دوچار ہوگئے تھے۔
ــ آل سعود کے جبر و ظلم کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "آل سعود حکومت مخالف مظاہرین کی سرکوبی کو ـ ان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ـ قانونی شکل دینے کی کوشش میں مصروف ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا ہے کہ آل سعود کی حکومت نے اندرون ملک جبر و ستم کا نیا دور شروع کررکھا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دوسرے عرب ملکوں کی مانند اس ملک کے عوام حکومت کے خلاف وسیع احتجاج کا سلسلہ روک دے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لکھا ہے کہ گرفتار شدگان کو مقدمہ چلائے بغیر اور فرد جرم عائد کئے بغیر جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ بے شمار اصلاح پسند سعودی شہریوں کو ایسی عدالتوں کی جانب سے طویل المدت قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں جن میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے ہیں اور ملزمان کو اپنے دفاع کے مواقع دینے کے حق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آل سعود کی وزارت داخلہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے قانون کی حدود سے بالاتر اختیارات حاصل کئے ہیں اور ان اختیارات کی بنا پر یہ وزارت انسانی حقوقی کی بلا روک ٹوک خلاف ورزی کرتی ہے اور ان ہی اختیارات کے بموجب یہ وزارت کسی بھی ادارے کے سامنے اپنے آپ کو جواہدہ نہیں سمجھتی۔
ــ حزب اختلاف کی سنی جماعتوں کی طرف سے قطیف میں اسلامی بیداری کی حمایتسعودی عرب کی سنی اپوزیشن جماعتوں نے صوبہ القطیف میں شیعہ عوام کی اسلامی بیداری کی تحریک کی حمات کا اعلان کرتے ہوئے اس صوبے کے نوجوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔اس کے باوجود کہ آل سعود کی مسلسل کوشش ہے کہ وہ الشرقیہ کے شیعہ اکثریتی علاقے میں جاری اسلامی بیداری کی تحریک کو سعودی عوام سے بالکل الگ تھلگ کردے اور اس کو محض شیعہ تحریک قرار دے، سعودی عرب کی اپوزیشن کے سنی راہنماؤں نے اس تحریک کی کھلم کھلا حمایت کا اعلان کیا ہے۔سنی اپوزیشن راہنما "کساب العتیبی" نے الحوار نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "آل سعود کی حکومت کے لئے نہ تو مذہب اہمیت رکھتا ہے اور نہ ہی اس کوئی اور چیز، اس خاندان کے لئے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ اقتدار کا تحفظ ہے"۔انھوں نے کہا: سعودی عرب کی عدالتیں آل سعود کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکی ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ عدالتیں "ڈاکٹر سعود الہاشمی" کو تیس سال کی قید کی سزا نہ سناتیں؛ جو کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے؛ چنانچہ ہماری رائے یہ ہے یہ آل سعود کی حکومت القطیف کے بارے میں بھی جھوٹی تشہیری مہم چلا رہی ہے۔ العتیبی نے کہا: ہم جانتے ہیں کہ القطیف کے نوجوان اٹھ چکے ہیں اور ان کے مطالبات قانونی اور جائز ہیں، وہ بیان کی آزادی اور برابری اور عوام کے درمیان تیل کی دولت کی عادلانہ تقسیم کے خواہاں ہيں اور ان کے یہ مطالبات پوری ملک کے شیعہ اور سنی عوام کے مشترکہ مطالبات ہیں اور پوری سعودی ملت ان مطالبات پر یقین رکھتی ہے۔ "ڈاکٹر سعد الفقیہ" کی قیادت میں سنی اپوزیشن جماعت "اصلاح پسند اسلامی تحریک" نے بھی ایک بیان میں القطیف میں اسلامی بیداری کی تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدل و انصاف کے مسئلے کا تعلق کسی عقیدے سے نہیں ہے بلکہ سعودی عرب کے تمام شیعہ اور سنی عوام کا مسلمہ حق ہے۔آل سعود مخالف سیاسی شخصیت اور روزنامہ نویس "ڈاکٹر مضاوی الرشید" نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ القطیف کی اسلامی بیداری کی تحریک کو تمام سعودی عوام کی حمایت حاصل ہے۔
ــ آل سعود اور آل ثانی کے درمیان اختلافات کا نیا پہلو / طلال بن عبدالعزیز کے اہم انکشافاتکہا جاتا ہے کہ ایک سعودی شہزادے نے قاہرہ میں اپنی رہائشگاہ میں تین عرب شخصیتوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب بہت اور قطر کے درمیان عنقریب خونریز جھڑپوں اور شدید جھگڑوں کا آغاز ہونے والا ہے۔ان تین عرب شخصیتوں میں سے ایک نے کہا ہے کہ شہزادہ امیر طلال بن عبدالعزیز نے قطری حکام کی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر کا حکمران خاندان عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں پر عملدرآمد کررہا ہے۔عرب شخصیت نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر ذرائع کو بتایا: طلال بن عبدالعزیز کی رائے یہ ہے کہ قطر کا آل ثانی خاندان عرب ممالک اور فلسطین کے خلاف اسرائیلی پالیسیاں نافذ کررہا ہے۔طلال نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ آل ثانی خاندان اگلے مرحلے میں ایک فوری اقدام کے ذریعے سعودی عرب کو تقسیم کرکے آل سعود کو مکہ اور مدینہ پر مشتمل چھوٹے سے ملک میں محدود کرے گا اور سعودی عرب کا ایک بڑا حصہ اردن کے حوالے کیا جائے گا تا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو وہیں بسایا جاسکے۔ طلال نے کہا: امریکہ نے سعودی عرب کی تقسیم منصوبہ بنایا ہے اور اس نے قطر کو اپنے ایجنٹ میں تبدیل کردیا ہے تا کہ سعودی عرب میں امریکی منصوبوں پر عملدرآمد کرے۔ طلال نے سعودی عرب میں حالیہ مظاہروں کو بھی قطر کی سازشوں سے جوڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ سعودی عرب میں آل ثانی کی سازشیں ایسے وقت میں سامنے آرہی ہیں کہ بعض علاقوں میں تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ طلال نے قطر اور اسرائیل کے درمیان قریبی سیکورٹی تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شام اور فلسطین سمیت عرب ممالک کے خلاف آل ثانی خاندان کی سازشوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ قطری اور اسرائیلی امریکہ، اسرائیل اور یورپ کی طرف سے ایران کے ساتھ شدید دشمنی میں سعودی عرب کو ایران کے خلاف اگلے مورچے میں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ــ سعودی صورت حال کے واضح حقائقایک سعودی مبصر نے کہا کہ آل سعود کے خلاف ماضی میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف متعدد رپورٹیں شائع ہوئی ہیں اور حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ بھی ایسی ہی ہے جو پچھلی رپورٹوں کی طرح ہے اور اس میں کوئی نئی بات نہيں ہے یا یوں کہئے یہ رپورٹ بھی نامکمل اور ناقص ہے۔عقل الباہلی نے کہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ ناقص ہونے کے باوجود سعودی عرب کے اندر بعض حقائق کو واضح کررہی ہے جبکہ حکومت نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو الشرقیہ کے علاقے میں نہیں ہونے دیا ہے تا ہم ملک کے اندر انسانی حقوق کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں نے بھی متعدد رپورٹیں تیار کرکے شائع کی ہیں جو حقائق سے پردہ اٹھارہی ہیں چنانچہ آل سعود کا یہ اقدام بھی بیہودہ ہی تھا۔انھوں نے کہا: آل سعود نے ہزاروں افراد اسیر کرلئے ہیں گو کہ یہ سارے افراد بہار عربی کے آغاز سے قبل گرفتار ہوئے ہیں اور کچھ لوگ القاعدہ کی سرگرمیوں کی بنا پر بھی گرفتار ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ سعودی عرب کے روزنامہ نویسوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رپورٹوں سے تیار کی گئی ہے اور اس میں کوئی نئی بات دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ادھر مصر میں انسانی حقوق کے شعبے کے ایک سرگرم راہنما "محسن بَہَنسی" نے العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کا نظام جبر و تشدد اور عوام کو کچلنے، گرفتار کرنے اور فعال افراد کو ٹارچر کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے اپنی ملت کے جائز مطالبات کا راستہ روکنے کی کوشش کررہا ہے اور مختلف اداروں کی جانب سے اس ملک ميں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزی اور ایک خاص مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ امتیازی سلوک کے سلسلے میں شائع ہوئی ہیں۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شائع ہونے والی تازہ ترین رپورٹ آل سعود کے شہنشاہی نظام کی جانب سے عوام پر شدید مظالم اور عوام کو درپیش دشوار صورت حال کی غمازی کرتی ہے۔ انھوں نے کہا: آل سعود کے قلمرو میں عوام کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کا عمل ایک خاص مکتب کے پیروکاروں تک محدود نہیں ہے بلکہ سعودی معاشرے کے تمام طبقات رنج و عذاب کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
ــ آل سعود خاندان قوم کو غلام سمجھتا ہےسعودی عرب کے انسانی حقوق مرکز کے سربراہ "علی الیامی" نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود کی خاندانی بادشاہت سعودی عرب کے تمام باشندوں کو زرخرید غلام سمجھتی ہے اور جو بھی اس ملک میں اپنے معمولی سے حقوق کا مطالبہ کرے یہ حکومت اس کو دہشت گرد قرار دیتی ہے۔علی الیامی نے جمعرات کے دن العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا: آل سعود کی ظالمانہ پالیسیاں کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہیں، ملک کے تمام قوانین اور تمام اختیارات حکمرانوں کے ہاتھ میں ہیں اور حکام ان قوانین اور ا